بسم اللہ الرحمن الرحیم
نام :۔سید جواد نقوی
والد کا نام :۔سید عبداللہ شاہ
تاریخ پیدائش :۔یکم فروری 1963
محل پیدائش گاوں :۔ٹھپرا تحصیل ہری پور ضلع ہری پور ہزارہ ڈویژن۔
ابتدائی تعلیم :۔گورنمنٹ پرائمری سکول کاہل پائین ۔
چھٹی جماعت تا دسویں جماعت گورنمنٹ ہائی سکول کاہل پائین دینی تعلیم کا آغاز یکم مئی 1979 تا یکم ستمبر 1983 جامعہ اہل البیتؑ اسلام آباد تعلیم کا تسلسل حوزہ علمیہ قم المقدسہ برائے اعلٰی دینی تعلیم 6 ستمبر 1983 تا اکتوبر 2010 ہے۔
ازدواج 11 اگست 1983 اولاد 2 بیٹیاں 2 بیٹے
اساتید:۔ شیخ محسن علی نجفی ۔ شیخ صلاح الدین نجفی ۔آیت اللہ عبداللہ جوادی آملی ۔آیت اللہ حسن زادہ آملی ۔ آیت اللہ شیخ جواد تبریزی۔آیت اللہ مرتضی ستودہ ۔آیت اللہ پایانی ۔آیت اللہ مصطفیٰ اعتمادی ۔آیت اللہ مصباح یزدی ، آیۃ اللہ منتظری، آیت اللہ وحید خراسانی۔ آیت اللہ فاضل لنکرانی۔ آیت اللہ احمد پایانی۔
تعلیمی درجہ:۔ درس خارج علم فقہ و اصول فقہ 14 سال تفسیر، فلسفہ ،کلام ،منطق، عرفان 18 سال تدریس 22 سال حوزہ علمیہ قم مقدسہ 15 سال حوزہ علمیہ جامعہ العروۃ الوثقی ٰ تبلیغ 35 سال
مقالات:۔ ارکان ایمان۔ معاشرتی قباحتوں کے اثرات۔ افراط و تفریط جہالت کی دو حالتیں۔ نہج البلاغہ نمونہ امامت عملی۔ لسان عاقل اور قلب احمق۔ فلسفہ انتظار۔ سیرت رسول در کلام امیرالمومنینؑ۔ آفات لسان۔ پاسبان خط امام۔ خودی سر امور کائنات۔ زمانہ امیرالمومنینؑ مئوخرین کے لیے آئینہ۔ مقصد بعثت انبیاءؑ۔ امت سازی میں تزکیہ نفس کا کردار۔ سیرت امام علیؑ۔ دیانت و سیاست از دیدگاہ امام خمینیؑ
تاسیسات:۔ جامعہ العروۃ الوثقی ٰ،جامعہ ام الکتاب،جامعہ الدین القیم، جامعہ جعفریہ، مدرسہ امام علی نقیؑ، جامعہ والفجر، مدرسہ بحر العلوم، دارولعلوم حجۃ، مدرسہ امام صادقؑ،درسہ المہدی، مدرسہ امام علی رضاؑ، مدرسہ شہید الحسینی، العصر اسلامی مرکز، جامعۃ المرتضیٰ، مدرسہ باب الحوائج، مدرسہ امام علیؑ، مدرسہ دارلرضا، مدرسہ زینبیہ، مدرسہ اسلامیہ جعفریہ، مدرسہ ابو طالبؑ، مدرسہ والفجر
نمایاں فعالیت:۔ بیداری امت۔ وحدت امت ،ترویج نظام اسلامی ، تفسیر نظام امامت و امت ۔ فکر انقلاب ۔ تعلیم و تربیت سماجی شعور و اصلاح ۔ قومی شعور کی بیداری عالمی و ملکی حالات کا تجزیہ و تحلیل ۔ قرآن کریم کی سماجی و اجتماعی تفسیر ۔ فکر اقبالؒ کا فروغ ۔ ترویج افکار امام خمینیؒ ۔ تشدد پسندی اور فرقہ واریت کے خلاف جدوجہد ۔ تعلیمی اداروں کا قیام
مجلہ عروۃ الوثقٰی گاہ نامہ