پاکستان کے دل لاہور کے تاریخی شہر کے مشرق میں تقریباً 18 ایکڑ کے وسیع و عریض رقبے میں قائم پاکستان کا عظیم تعلیمی ادارہ جامعہ العروۃ الوثقٰی 2010 سے اپنی دینی تعلیمی تربیتی و قومی خدمات انجام دے رہا ہے۔ 2008 میں لاہور کے چند خیّر مومنین نے استاد محترم سید جواد نقوی کی فکر اور تبلیغ سے متاثر ہو کر ناب اور خالص دین کی تعلیم و ترویج کے لئے ایک تعلیمی مرکز کی ضرورت کا خیال پیش کیا جو تھوڑے ہی عرصہ بعد ذہن سے نکل کر زمین پر آ گیا۔ 2008 میں تین ایکڑ زمین لاہور فیروز پور روڈ ، چونگی امر سدھو سے اندر تین کلومیٹر کے فاصلے پر چند رائے گاؤں میں خرید کی گئی اور اس کے پہلے مرحلے کی تعمیر شروع ہوئی جو 2010 میں مکمل ہوئی چنانچہ جون 2010 میں ایک عوامی اجتماع کے ذریعے اس کا افتتاح ہوا۔
تعلیم و تربیت کا باقاعدہ اور بھر پور عمل اکتوبر 2010 میں شروع ہوا۔ اس کے ساتھ ساتھ ملحقہ زمین کی خریداری کا عمل شروع ہوا چنانچہ ایک سال بعد مزید تین ایکڑ زمین کا اضافہ ہو گیا جس پر طلاب کی اقامت گاہ (ہاسٹل) کی تعمیر کا آغاز ہوا بہت ہی قلیل مدت میں اقامت گاہ کا پہلا مرحلہ تیار ہوکر طلاب کی رہائش کے لئے استعمال شروع ہوا۔
اسی دوران خواتین کے لئے جامعہ ام الکتاب کا آغاز بانی مومنین کے گھر میں شروع ہوا جو بعد میں تعداد زیادہ ہونے کی وجہ سے ماڈل ٹاؤن لاہور میں کرائے کی عمارت میں منتقل ہو گیا۔ ایک سال کے بعد جامعہ عروۃ الوثقی سے ملحقہ تقریباً پانچ ایکڑ زمین خریدی گئی جس پر جامعہ ام الکتاب کی تعمیر کا آغاز ہوا۔ ام الکتاب کا پہلا مرحلہ دوسال میں مکمل ہوا اور طالبات نئی عمارت میں تعلیم کے لئے منتقل ہوئیں۔ جامعہ ام الکتاب کی بقیہ زمین حاصل کرنے میں کچھ وقت لگ گیا اور جوں ہی مکمل زمین حاصل کر لی گئی خواتین مدرسے کی اصل عمارت کی تعمیر ہوئی ہے جو مختصر عرصے کے بعد مکمل ہو گئی اور آج پاکستان میں خواتین کے لئے نہایت اعلیٰ سہولیات و خصوصیات کے ساتھ یہ ادارہ اپنی فعالیت جاری رکھے ہوئے ہے ۔ خواتین کے مدرسے میں تقریباً 3000 طالبات کی رہائشی گنجائش پائی جاتی ہے۔ ام الکتاب کی تعمیر کے دوران اورعروۃ الوثقی ٰمیں اقامت گاہ کے دوسرے مرحلہ کی تعمیر کے دوران مسجد البیت العتیق کے لئے جگہ خریدی گئی اور کچھ دیگر خیّر مومنین کی ہمت سے ایک عظیم الشان کثیر المنزلہ وسیع المحوطہ رفیع العمارۃ مختلف المقاصد 14 کنال زمین پر چار طبقات میں زیر تعمیر آئی ۔ جو بعض دیگر مومنین کے اخلاص و ہمت سے پایہ تکمیل تک پہنچی اور آج پاکستان کی سب سے بڑی مساجد میں شمار ہوتی ہے۔
جامعہ العروۃ الوثقٰی نے مفازۃ الحیات کے نام سے 50 بستر کا ہسپتال بھی بنایا ہے جس سے طلاب و طالبات کے علاوہ علاقے کے لوگ بھی مستفید ہو رہے ہیں سائنس کالج ہنرستان رشد کے نام سے اپنی دیدہ زیب عمارت کے ساتھ آخری اضافہ ہے۔
جامعہ العروۃ الوثقٰی کو حقیقی معنوں میں شجرہ طیبہ کہا جا سکتا ہے جسکی بنیاد مضبوط شاخیں آسمان میں اور پھل مسلسل مومنین کو مل رہا ہے۔ عروۃ الوثقی قومی و دینی جذبے اور شعور کا منہ بولتا ثبوت ہے ۔ کسی اندرونی و بیرونی امداد کے بغیر خود انحصاری کا شاہکار ہے۔ عروۃ الوثقی جدت جدیت ، جھد اور نظم کا استعارہ بن گیا ہے۔ جامعہ کے بانیوں ،معاونین کارکنان اور طلاب کی محنت لگن اور کوشش نےدنیا کو محاسباتی مخمصے میں ڈال دیا ہے ۔ جامعہ کے بارے میں اکثر غلط اندازے لگائے جاتے ہیں یہ پاکستانی قوم کے عزم وہمت کی مثال ہے۔ جامعہ عروۃ الوثقی نے تعلیم ، تربیت، فکری ، قومی ، سماجی اور مذہبی اُفق پر بہت گہرے اثرات چھوڑے ہیں۔ تفرقہ اور فرقہ واریت کی آگ میں جلتے ملک میں رحمت وحدت ، محبت اور رواداری کی باران برسائی ہے بے شعوری کی بیماری میں مبتلا قوم میں شعور اجاگر کیا ہے۔ غفلت اور جہالت کی نیند میں غرق معاشرے میں بیداری کی لہر پیدا کی ہے ۔ ہزاروں طلباء و طالبات کو زیور علم سے آرستہ کیا ہے ، دست بہ گریباں افراد ، گروہوں اور فرقوں کو آپس میں ملایا ہے مایوس نسل کے اندر امید کی روشنی پھیلائی ہے۔
عروۃ الوثقی کا تعارف شاعرِ نامدار جناب علی دیپ رضوی نے نظم کی صورت میں پیش کیا ہے جو عروۃ الوثقیٰ کا منظوم تعارف ہے۔
العروۃ الوثقٰی کا منظوم تعارف
اُمت کو جس پہ ناز ہے وہ حوزہ علمیہ ہے عروہ الوثقی ہے عروہ الوثقی فکر و شعور ہوتا ہے بیدار اس جگہ منشور کربلا کا ہے بیدار اس جگہ طلاب دین کی نصرت کو تیار اس جگہ علم و عمل کے ساتھ ہے کردار اس جگہ تقوی پرہیزگاری کی ہر سوں فضا زندہ ہے انقلاب کی تعبیر بھی یہاں فکر خمینیت کی ہے تشیہر بھی یہاں لبیک خامنہ ای کی تصویر ہے یہاں ہر نوجواں کے ہاتھ میں تقدیر ہے یہاں جرئت بہادری کا جہاں درس مل رہا فرزند انقلاب کی کاوش کا یہ صلہ دن رات دین حق سے عقیدت کا سلسلہ اللہ کا کرم ہے یہ زہرا کی ہے دعا ہر سمت مل رہی ہے یہاں فکر کربلا آغا سید جواد کو اللہ کی عطا یہ مکتب بتول ہے یہ مکتب نبی یہ مکتب حسینؑ ہے یہ مکتب علیؑ ہر سمت اس میں نور الٰہی کی چاندنی رحمت کے جس سے روشنی ہر سو بکھر رہی زندہ ہے جہاں مومنوں اسلام کبریا استاد پُر خلوص ہیں طلاب با کمال مالک نہ ان کی فکر کو آئے کبھی زوال مقصد دلوں میں ان کے ہے بیدار ہر گھڑی ان کو ڈرا سکے کسی ظالم کی کیا مجال جرئت بہادری کا جو مرکز ہےمرحبا علی دیپ رضوی